السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: : القاضي يكف كل واحد من الخصمين عن عرض صاحبه باب: قاضی دونوں فریقین میں سے ہر ایک کو دوسرے کی عزت اچھالنے سے باز رکھے۔
حدیث نمبر: 20467
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: اقْتَتَلَ غُلَامَانِ: غُلَامٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَنَادَى الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لِلْمُهَاجِرِينَ، وَنَادَى الْأَنْصَارِيُّ: يَا لِلْأَنْصَارِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا هَذَا؟ أَدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ "؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللهِ، إِلَّا أَنَّ غُلَامَيْنِ اقْتَتَلَا، فَكَسَعَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْآخَرَ، قَالَ: " فَلَا بَأْسَ، وَلْيَنْصُرِ الرَّجُلُ أَخَاهُ، ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا، إِنْ كَانَ ظَالِمًا فَلْيَنْهَهُ، فَإِنَّهُ لَهُ نَصْرٌ "، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، " وَإِنْ كَانَ مَظْلُومًا فَلْيَنْصُرْهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مہاجرین اور انصار کے دو غلام آپس میں جھگڑ پڑے، مہاجر نے مہاجرین کو اور انصار نے انصار کو آواز دی۔ نبی ﷺ نکل پڑے اور فرمایا: ”یہ کیا ہے؟ کیا جاہلیت کی پکار؟“ انہوں نے کہا: نہیں اے اللہ کے رسول! یہ دو غلام آپس میں لڑ پڑے ہیں، سرین پر ایک دوسرے کو مارا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے ظالم یا مظلوم بھائی کی مدد کرے۔ اگر ظالم ہے تو اسے ظلم سے منع کرے، یہ اس کی مدد ہے (یا اس جیسا کلمہ کہا) اور اگر وہ مظلوم ہو تو اس کی مدد کرے۔“