حدیث نمبر: 20468
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ الْفَامِيُّ بِبَغْدَادَ فِي مَسْجِدِ الرَّصَافَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو ⦗٢٣٢⦘ عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: إِنَّ هَذَا انْتَزَى عَلَى أَرْضِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْكِنْدِيُّ، وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ، وَقَالَ الْآخَرُ: هِيَ أَرْضِي، أَزْرَعُهَا، قَالَ: " أَلَكَ بَيِّنَةٌ "؟ قَالَ: لَا، قَالَ: " فَلَكَ يَمِينُهُ "، قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ يُبَالِي مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، قَالَ: " لَيْسَ لَكَ فِيهِ إِلَّا ذَلِكَ "، قَالَ: فَلَمَّا ذَهَبَ لِيَحْلِفَ قَالَ: " أَمَا إِنَّهُ إِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ ظُلْمًا لَيَلْقَيَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَزُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَرَبِيعَةُ، هُوَ ابْنُ عَيْدَانَ بِفَتْحِ الْعَيْنِ، وَيَاءٍ مُعْجَمَةٍ مِنْ تَحْتِهَا بِنُقْطَتَيْنِ، وَقِيلَ: ابْنُ عِبْدَانَ، بِكَسْرِ الْعَيْنِ، وَبِبَاءٍ مُعْجَمَةٍ مِنْ تَحْتِهَا بِوَاحِدَةٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس تھا، دو جھگڑا کرنے والے آئے، ایک نے کہا: اس نے میری زمین جاہلیت میں چھین لی، یہ امرء القیس بن عابس کندی رضی اللہ عنہ تھا، اس سے جھگڑا کرنے والا ربیعہ تھا، دوسرے نے کہا: یہ میری زمین ہے، میں اس میں کھیتی باڑی کرتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس دلیل ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے ذمہ قسم ہے“، اس نے کہا: اس کو قسم کی پروا نہیں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے صرف یہی ہے“، جب وہ قسم اٹھانے گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس نے ظلم کی بنا پر قسم اٹھائی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20468
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 139»