السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من اجتهد من الحكام، ثم تغير اجتهاده، أو اجتهاد غيره فيما يسوغ فيه الاجتهاد، لم يرد ما قضى به استدلالا بما مضى في خطأ القبلة في كتاب الصلاة باب: حاکموں میں سے جو اجتہاد کرے پھر اس کا یا کسی اور کا اجتہاد ان معاملات میں تبدیل ہو جائے جن میں اجتہاد کی گنجائش ہے تو وہ اپنے کیے گئے فیصلے کو رد نہیں کرے گا، اس سے استدلال کرتے ہوئے جو کتاب الصلاۃ میں قبلے کی غلطی کے حوالے سے گزر چکا ہے۔
حدیث نمبر: 20379
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَعْقِلٍ، ثنا حَرْمَلَةُ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ، حِينَ وَلِيَ الْمَدِينَةَ فِي خِلَافَةِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ فَأَرَادَ أَنْ يَنْقُضَ مَا كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ قَضَى فِيهِ، فَكَتَبَ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ فِي ذَلِكَ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ: " إِنَّا لَمْ نَنْقِمْ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ مَا كَانَ يَقْضِي بِهِ، وَلَكِنْ نَقَمْنَا عَلَيْهِ مَا كَانَ أَرَادَ مِنَ الْإِمَارَةِ فَإِذَا جَاءَكَ كِتَابِي هَذَا فَأَمْضِ مَا كَانَ قَضَى بِهِ ابْنُ الزُّبَيْرِ وَلَا تَرُدَّهُ، فَإِنَّ نَقَضْنَا الْقَضَاءَ عَنَاءٌ مُعَنًّى ".حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب ابان بن عثمان، عبدالملک بن مروان کے دورِ حکومت میں مدینہ کے امیر بنے تو انہوں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو اس فیصلے سے ہٹانا چاہا جو انہوں نے کیا تھا۔ عبدالملک بن مروان نے ابان بن عثمان کو خط لکھا کہ ہم ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے ان کے فیصلے کی وجہ سے انتقام نہیں لینا چاہتے بلکہ ہم تو ان کی امارت کے ارادے پر انتقام چاہیں گے۔ جب میرا خط ملے تو وہی کر گزرنا جو ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے فیصلہ کیا ہے، آپ باز نہ آئیں؛ کیونکہ فیصلوں کو کاٹنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔