السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يقضي به القاضي ويفتي به المفتي، فإنه غيرجائز له أن يقلد أحدا من أهل دهره، ولا أن يحكم أو يفتي بالاستحسان باب: قاضی کے فیصلے اور مفتی کے فتوے کا بیان، ان کے لیے اپنے زمانے کے کسی شخص کی تقلید کرنا یا استحسان کی بنیاد پر فیصلہ دینا یا فتویٰ دینا جائز نہیں ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُوعَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، وَرُبَّمَا قَالَ: عَنْ حُرَيْثِ بْنِ ظُهَيْرٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَيُّهَا النَّاسُ، قَدْ أَتَى عَلَيْنَا زَمَانٌ لَسْنَا نَقْضِي، وَلَسْنَا هُنَالِكَ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ ⦗١٩٧⦘ بَلَّغَنَا مَا تَرَوْنَ، فَمَنْ عَرَضَ لَهُ مِنْكُمْ قَضَاءٌ بَعْدَ الْيَوْمِ، فَلْيَقْضِ فِيهِ بِمَا فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنْ أَتَاهُ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَلْيَقْضِ فِيهِ بِمَا قَضَى بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ أَتَاهُ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَمْ يَقْضِ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ، فَإِنْ أَتَاهُ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ وَلَمْ يَقْضِ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَقْضِ بِهِ الصَّالِحُونَ، فَلْيَجْتَهِدْ رَأْيَهُ، وَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: إِنِّي أَخَافُ، وَإِنِّي أَرَى "، فَإِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ، فَدَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ "..حریث بن ظہیر فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! ہمارے اوپر ایسا دور آیا نہ تو ہم فیصلہ کرتے تھے اور نہ ہی وہاں موجود ہوتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس مرتبہ پر پہنچا دیا جو تم دیکھ رہے ہو۔ آج کے بعد اگر کسی نے فیصلہ کرنا ہو تو کتاب اللہ کے موافق کرے۔ اگر کتاب اللہ میں موجود نہ ہو تو سنتِ رسول ﷺ کے موافق فیصلہ کرنا۔ اگر کتاب و سنت میں موجود نہ ہو تو نیک لوگوں کے فیصلہ جات کو ملحوظِ خاطر رکھو۔ اگر کتاب و سنت اور نیک لوگوں کے فیصلوں میں موجود نہ ہو تو اپنی رائے کا استعمال کریں۔ یہ نہ کہیں کہ میں ڈرتا ہوں یا میرا خیال ہے، ”حلال و حرام واضح ہے۔ اس کے درمیانی امور مشتبہ ہیں۔ شک والی چیز کو چھوڑ دیں اور دوسری کو لے لیں“۔