السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يقضي به القاضي ويفتي به المفتي، فإنه غيرجائز له أن يقلد أحدا من أهل دهره، ولا أن يحكم أو يفتي بالاستحسان باب: قاضی کے فیصلے اور مفتی کے فتوے کا بیان، ان کے لیے اپنے زمانے کے کسی شخص کی تقلید کرنا یا استحسان کی بنیاد پر فیصلہ دینا یا فتویٰ دینا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20342
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ حَفْصٍ، كُوفِيٌّ،، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَابْنِ فُضَيْلٍ، وَأَسْبَاطٌ وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَيْهِ: " إِذَا جَاءَكُمْ أَمْرٌ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاقْضِ بِهِ، وَلَا يَلْفِتَنَّكَ عَنْهُ الرِّجَالُ، فَإِنْ أَتَاكَ مَا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ، فَانْظُرْ سُنَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاقْضِ بِهَا، فَإِنْ جَاءَكَ مَا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ، وَلَمْ يَكُنْ فِيهِ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْظُرْ مَا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ فَخُذْ بِهِ، فَإِنْ جَاءَكَ مَا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ، وَلَمْ يَكُنْ فِيهِ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ قَبْلَكَ، فَاخْتَرْ أِيَّ الْأَمْرَيْنِ شِئْتَ، إِنْ شِئْتَ أَنْ تَجْتَهِدَ بِرَأْيِكَ، ثُمَّ تُقَدِّمَ فَتُقَدِّمَ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُأَخِّرَ فَتُأَخِّرَ، وَلَا أَرَى التَّأَخُّرَ إِلَّا خَيْرًا لَكَ ". رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ بِمَعْنَاهُ.حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو خط لکھا: جب کسی معاملے کا حکم قرآن میں موجود ہو تو اس کے مطابق فیصلہ کرنا، لوگ آپ کو اس سے ہٹا نہ سکیں۔ اگر قرآن میں موجود نہ ہو تو سنتِ رسول ﷺ میں دیکھو، اگر اسے پالو تو اس کے مطابق فیصلہ کر دو۔ اگر قرآن و سنت میں موجود نہ ہو تو جس پر لوگوں کا اجماع ہو اس کے مطابق فیصلہ کر دو۔ اگر قرآن و سنت اور لوگوں کی رائے بھی موجود نہ ہو تو جس معاملے کو پسند کرو؛ اگر آپ چاہیں تو اپنی رائے سے اجتہاد کریں، پھر چاہے فوراً عمل کر لیں یا مؤخر کر دیں، لیکن مؤخر کرنا زیادہ بہتر ہے۔