السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: موضع المشاورة باب: مشاورت کے مقام کا بیان۔
حدیث نمبر: 20312
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، وَأَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ قَالَا: ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرُوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا سَيَّارٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: " لَمَّا بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شُرَيْحًا عَلَى قَضَاءِ الْكُوفَةِ قَالَ: " انْظُرْ مَا تَبَيَّنَ لَكَ فِي كِتَابِ اللهِ، فَلَا تَسْأَلْنَ عَنْهُ أَحَدًا، وَمَا لَمْ يَتَبَيَّنْ لَكَ فِي كِتَابِ اللهِ فَاتَّبِعْ فِيهِ السُّنَّةَ، وَمَا لَمْ يَتَبَيَّنْ لَكَ فِي السُّنَّةِ فَاجْتَهَدْ فِيهِ رَأْيَكَ ".حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے شریح رحمہ اللہ کو کوفہ کا قاضی مقرر کیا تو نصیحت کی کہ جو کتاب اللہ سے مسئلہ واضح ہو کسی سے مشورہ طلب نہ کرنا، جو کتاب اللہ سے واضح نہ ہو تو سنت کی پیروی کرنا، اور جو سنت میں واضح نہ ہو تو اپنی رائے سے اجتہاد کرنا۔