السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: موضع المشاورة باب: مشاورت کے مقام کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرُوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: " كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى شُرَيْحٍ: " إِذَا أَتَاكَ أَمْرٌ فِي كِتَابِ اللهِ تَعَالَى فَاقْضِ بِهِ، وَلَا يَلْفِتَنَّكَ الرِّجَالُ عَنْهُ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللهِ وَكَانَ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاقْضِ بِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللهِ، وَلَا فِي سُنَّةِ رَسُولِهِ فَاقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ أَئِمَّةُ الْهُدَى، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللهِ، وَلَا فِي سُنَّةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا فِيمَا قَضَى بِهِ أَئِمَّةُ الْهُدَى، فَأَنْتَ بِالْخِيَارِ، إِنْ شِئْتَ تَجْتَهِدُ رَأْيَكَ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤَامِرَنِي، وَلَا أَرَى مُؤَامَرَتَكَ إِيَّايَ إِلَّا أَسْلَمَ لَكَ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " فَأَخْبَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ مَوْضِعِ الْمُؤَامَرَةِ، وَهِيَ الْمُشَاوَرَةُ، فَرُبَّمَا يَكُونُ عِنْدَهُ مِنَ الْأُصُولِ مَا لَمْ يَبْلُغْ شُرَيْحًا، فَيُخْبِرُهُ بِهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قاضی شریح رحمہ اللہ کو لکھا: جب معاملہ اللہ کی کتاب میں ہو تو اس کے مطابق فیصلہ کرنا اور لوگ تمہاری طرف جھانکیں بھی نہیں، اگر کتاب اللہ میں نہ ہو تو سنتِ رسول اللہ ﷺ کے موافق فیصلہ کرنا، اگر نہ کتاب اللہ اور نہ ہی سنتِ رسول اللہ ﷺ میں ہو تو پھر ویسے فیصلہ کرنا جیسے ہدایت والے ائمہ نے کیا، اگر کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ ﷺ اور ائمہ کا فیصلہ موجود نہ ہو تو آپ کو اختیار ہے، اگر آپ چاہیں تو خود اجتہاد کر لیں ورنہ مجھ سے مشورہ کر لیں، لیکن پھر بھی میں آپ کا مشورہ کرنا ہی بہتر تسلیم کروں گا۔
شیخ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مشاورت کے مواقع بتائے کہ وہ اصول جن تک یہ نہ پہنچ سکیں، وہ پوچھ لیتے تو ان کو بتا دیا جاتا۔