السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: مشاورة الوالي والقاضي في الأمر باب: حاکم اور قاضی کا معاملات میں مشورہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20311
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: " كَانَ سَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ يَقْضِي فِي الْمَسْجِدِ، فَسُئِلَ عَنْ فَرِيضَةٍ، فَأَخْطَأَ فِيهَا، فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ شُرَحْبِيلَ: " الْقَضَاءُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا "، فَكَأَنَّهُ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ، فَرَجَعَ ذَلِكَ إِلَى أَبِي مُوسَى فَقَالَ: " أَمَّا أَنْتَ يَا سَلْمَانُ فَمَا كَانَ نَوْلُكَ تَغْضَبُ، وَأَمَّا أَنْتَ ⦗١٨٩⦘ يَا عَمْرُو فَكَانَ مِنْ نَوْلِكَ تُشَاوِرُهُ فِي أُذُنِهِ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شرحبیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہ مسجد میں فیصلہ کیا کرتے تھے۔ ان سے فرائض کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے غلطی کی۔ شرحبیل رحمہ اللہ نے کہا: فیصلہ اس طرح ہے، اس نے اپنے دل میں کچھ محسوس کیا تو اس نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف رجوع کیا۔ انہوں نے کہا: اے سلمان! آپ کو غصہ نہ کرنا چاہیے، لیکن اے عمرو! آپ اس کے کان میں مشورہ دے دیتے۔