السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: مشاورة الوالي والقاضي في الأمر باب: حاکم اور قاضی کا معاملات میں مشورہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20302
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ عُبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا سَارَ إِلَى بَدْرٍ اسْتَشَارَ الْمُسْلِمِينَ فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ⦗١٨٧⦘ إِيَّاكُمْ يُرِيدُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: " إِذًا لَا نَقُولُ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى {اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ} وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ لَاتَّبَعْنَاكَ ".حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ بدر کو چلے تو ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما اور مسلمانوں سے مشورہ کیا۔ پھر دوبارہ ان سے مشورہ کیا تو انصار کہنے لگے: اے انصار کا گروہ! نبی ﷺ تمہارا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ”تب ہم بنو اسرائیل کی طرح نہ کہیں گے جو انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا: ﴿فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ﴾ [سورة المائدة: 24] ”تو اور تیرا رب جاؤ اور لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں۔“ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، اگر آپ برک الغماد تک چلیں گے ہم آپ کی اتباع کریں گے۔“