السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: مشاورة الوالي والقاضي في الأمر باب: حاکم اور قاضی کا معاملات میں مشورہ کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فِي قِصَّةِ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَا: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَشِيرُوا عَلَيَّ، أَتَرَوْنَ أَنْ نَمِيلَ إِلَى ذَرَارِيِّ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ أَعَانُوهُمْ فَنُصِيبَهُمْ، أَمْ تَرَوْنَ أَنْ نَؤُمَّ الْبَيْتَ، فَمَنْ صَدَّنَا عَنْهُ قَاتَلْنَاهُ؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، إِنَّمَا جِئْنَا مُعْتَمِرِينَ، وَلَمْ نَجِئْ لِقِتَالِ أَحَدٍ، وَلَكِنْ مَنْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْبَيْتِ قَاتَلْنَاهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَرُوحُوا إِذًا "، قَالَ الزُّهْرِيُّ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَكْثَرَ مُشَاوَرَةً لِأَصْحَابِهِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.عروہ بن زبیر، سیدنا مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم رضی اللہ عنہما سے حدیبیہ کا قصہ نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھ سے مشورہ کیا کرو۔ کیا تمہارا خیال ہے کہ ہم اپنی اولاد کی طرف مائل ہو جائیں گے؟ وہ لوگ جنہوں نے ان کی اعانت کی، ہم ان کو ضرور پالیں گے۔ کیا تمہارا خیال ہے کہ ہم بیت اللہ کا قصد کریں؟ جس نے ہمیں اس سے روکا ہم اس سے لڑائی کریں گے۔“ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ اور رسول ﷺ جانتے ہیں، ہم تو عمرہ کی غرض سے آئے ہیں، قتال کے لیے نہیں آئے، لیکن جو ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوا ہم ان سے لڑائی کریں گے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تب تم چلو۔“
(ب) زہری حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سب سے زیادہ اپنے صحابہ سے مشورہ کیا کرتے تھے۔