السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يكره للقاضي من الشراء والبيع والنظر في النفقة على أهله وفي ضيعته لئلا يشغل فهمه باب: قاضی کے لیے خرید و فروخت، اہلِ خانہ کے اخراجات اور اپنی جائیداد کے معاملات دیکھنے کی کراہت کا بیان تاکہ اس کی توجہ نہ بٹے۔
حدیث نمبر: 20292
وأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا. يَعْقُوبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شُبْرُمَةَ، قَالَ: " وَلَّى ابْنُ هُبَيْرَةَ الشَّعْبِيَّ الْقَضَاءَ، وَكَلَّفَهُ أَنْ يَسْمُرَ مَعَهُ بِاللَّيْلِ، فَقَالَ لَهُ الشَّعْبِيُّ: " لَا أَسْتَطِيعُ هَذَا، أَفْرِدْنِي بِأَحَدِ الْأَمْرَيْنِ، لَا أَسْتَطِيعُ الْقَضَاءَ، وَسَمَرَ اللَّيْلِ ".حافظ ثناء اللہ
سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن شبرمہ رحمہ اللہ سے سنا، جب ابن ہبیرہ (کے دور میں) شعبی رحمہ اللہ قاضی بنے تو میں نے کہا: رات کو مجھ سے باتیں کیا کرو۔ انہوں نے کہا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا؛ یا تو مجھے قاضی بنا لو یا رات کو باتیں کر لو۔