السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يكره للقاضي من الشراء والبيع والنظر في النفقة على أهله وفي ضيعته لئلا يشغل فهمه باب: قاضی کے لیے خرید و فروخت، اہلِ خانہ کے اخراجات اور اپنی جائیداد کے معاملات دیکھنے کی کراہت کا بیان تاکہ اس کی توجہ نہ بٹے۔
حدیث نمبر: 20291
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ بَعْضِ إِخْوَانِهِ، عَنْ جُزِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ زَبَّانَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ رَكِبْتَ فَتَرَوَّحْتَ قَالَ عُمَرُ: " فَمَنْ يَجْزِي عَمَلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ؟ "، قَالَ: " تَجِزِيهِ مِنَ الْغَدِ "، قَالَ: " لَقَدْ كَدَحَنِي عَمَلُ يَوْمٍ وَاحِدٍ، فَكَيْفَ إِذَا اجْتَمَعَ عَلَيَّ عَمَلُ يَوْمَيْنِ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ؟ ".حافظ ثناء اللہ
زبان بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ سے کہا: آپ سوار ہوں اور رات کو کام کریں، تو عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کہنے لگے: اس دن کام کون کرے گا؟
کہنے لگے: دوسرے دن کر لینا، تو انہوں نے فرمایا: ایک دن کے کام نے مجھے تھکا دیا تو دو دن کا کام ایک دن میں کیسے کروں گا۔