حدیث نمبر: 20261
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: " كَانَ شُرَيْحٌ يَدْخُلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَيْتًا يَخْلُو فِيهِ، لَا يَدْرِي النَّاسُ مَا يَصْنَعُ فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ

مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ جمعہ کو گھر میں داخل ہوتے، وہ گھر میں اکیلے ہوتے، لوگوں کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کرتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20261
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»