السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: الرخصة في الاحتجاب في غير وقت القضاء، وفي وقت القضاء إذا خشي الازدحام عليه باب: فیصلے کے اوقات کے علاوہ پردہ اختیار کرنے (تنہائی میں رہنے) کی اجازت، اور قضاء کے وقت بھی اگر اس پر ہجوم کا خدشہ ہو تو پردہ کرنے کی اجازت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيُّ، وَكَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ذَكَرَ لِي ذِكْرًا مِنْ حَدِيثِهِ ذَلِكَ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ، فَقَالَ لِي مَالِكٌ: بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي أَهْلِي حِينَ مَتَعَ النَّهَارُ، إِذَا رَسُولُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَجِبْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَى رِمَالِ سَرِيرٍ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاشٌ، مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ جَلَسْتُ فَقَالَ لِي: " هَهُنَا يَا مَالِ " - يَعْنِي: يَا مَالِكُ، إِنَّهُ قَدْ قَدِمَ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِكَ، وَقَدْ أُمِّرْتَ لَهُمْ، فَاقْسِمْ بَيْنَهُمْ "، قَالَ: فَقُلْتُ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ أَمَّرْتَ بِهِ غَيْرِي " قَالَ: " فَاقْبِضْهُ أَيُّهَا الْمَرْءُ "، قَالَ: " فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَهُ إِذْ جَاءَهُ حَاجِبُهُ يَرْفَأُ، فَقَالَ: " هَلْ لَكَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ يَسْتَأْذِنُونَ عَلَيْكَ؟ " قَالَ: " نَعَمْ "، فَأَذِنَ لَهُمْ، قَالَ: " فَدَخَلُوا فَسَلَّمُوا، قَالَ: " ثُمَّ لَبِثَ يَرْفَأُ قَلِيلًا، فَقَالَ لِعُمَرَ: هَلْ لَكَ فِي عَلِيٍّ وَالْعَبَّاسِ؟ " قَالَ: " نَعَمْ، ائْذَنْ لَهُمَا "، فَلَمَّا دَخَلَا سَلَّمَا وَجَلَسَا، فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ: " اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا "، فَقَالَ الرَّهْطُ - عُثْمَانُ وَأَصْحَابُهُ -: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنَهُمَا، وَأَرِحْ أَحَدَهُمَا مِنَ الْآخَرِ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.مالک بن اوس بن حدثان نصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ محمد بن جبیر بن مطعم رحمہ اللہ نے ایک حدیث ذکر کی۔ میں چلا اور مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ پر داخل ہوا۔ میں نے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اپنے گھر والوں کے درمیان تھا، جس وقت دن اچھی طرح چڑھ گیا تو اچانک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قاصد آیا، اس نے کہا: ”امیر المومنین یاد کر رہے ہیں۔“ میں اس کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ وہ کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی چارپائی پر بیٹھے تھے، کوئی اوپر بستر بھی نہ تھا اور چمڑے کا بنا ہوا تکیہ تھا۔ میں سلام کہہ کر بیٹھ گیا۔ فرمانے لگے: ”اے مالک! یہاں بیٹھو۔“
”اور اپنی قوم کے لوگوں میں تقسیم کرو، میں نے ان کو حکم دے دیا ہے، ان کے درمیان تقسیم کر دو۔“ میں نے کہا: اے امیر المومنین! میرے علاوہ کسی اور کو حکم دے دیں۔ فرمایا: ”اے انسان! پکڑ۔“ ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ دربان آیا اور حضرت عثمان، حضرت عبدالرحمن، حضرت زبیر اور حضرت سعد رضی اللہ عنہم کے لیے اجازت طلب کر رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی۔ اجازت ملنے کے بعد وہ داخل ہوئے اور سلام کہا، تھوڑی دیر کے بعد دربان دوبارہ آیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما اجازت طلب کرتے ہیں، فرمایا: ”ان کو اجازت دے دو۔“ دونوں داخل ہوئے اور سلام کہہ کر بیٹھ گئے تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے اور اس کے درمیان فیصلہ فرمائیں۔“ گروہ کہنے لگا: حضرت عثمان اور ان کے ساتھیو، اے امیر المومنین! ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرنا اور ایک کو دوسرے سے آرام دینا۔