السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستحب للقاضي من أن يقضي في موضع بارز للناس، لا يكون دونه حجاب، وأن يكون متوسط المصر باب: قاضی کے لیے مستحب ہونے کا بیان کہ وہ لوگوں کے سامنے کھلی جگہ پر فیصلے کرے، اس کے اور لوگوں کے درمیان کوئی پردہ (رکاوٹ) نہ ہو، اور وہ شہر کے وسط میں ہو۔
حدیث نمبر: 20258
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُبَارَكٍ، ثنا صَدَقَةُ، وَيَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ يُكْنَى أَبَا مَرْيَمَ مِنَ الْأُسْدِ قَدِمَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: مَا أَقْدَمَكَ؟ قَالَ: حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَيْتُ مَوقِفَكَ جِئْتُ أُخْبِرُكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ وَلَّاهُ اللهُ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا، فَاحْتَجَبَ عَنْ حَاجَاتِهِمْ وَخَلَّتِهِمْ وَفَاقَتِهِمْ احْتَجَبَ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ حَاجَتِهِ وَخَلَّتِهِ وَفَاقَتِهِ "..حافظ ثناء اللہ
قاسم بن مغیرہ فلسطین کے ایک آدمی جن کی کنیت ابو مریم تھی اور اسد قبیلہ سے تعلق تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے پوچھا: کون سی چیز آپ کو لے کر آئی ہے؟ اس نے کہا: میں نے ایک حدیث نبی کریم ﷺ سے سنی، جب میں آپ کے گھر کو دیکھوں گا میں آکر آپ کو خبر دوں گا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”جس کو اللہ لوگوں کے امور کا والی بنائے، تو وہ ان کی ضروریات، ملاقات اور ان کے فاقوں سے دربان بٹھا لے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی حاجات و ضروریات اور فاقوں سے دربان بٹھا دے گا۔“