السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستحب للقاضي من أن يقضي في موضع بارز للناس، لا يكون دونه حجاب، وأن يكون متوسط المصر باب: قاضی کے لیے مستحب ہونے کا بیان کہ وہ لوگوں کے سامنے کھلی جگہ پر فیصلے کرے، اس کے اور لوگوں کے درمیان کوئی پردہ (رکاوٹ) نہ ہو، اور وہ شہر کے وسط میں ہو۔
حدیث نمبر: 20257
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الْحَسَنِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُغْلَقُ دُونَهُ الْأَبْوَابُ، وَلَا يَقُومُ دُونَهُ الْحَجَبَةُ، وَلَا يُغْدَى عَلَيْهِ بِالْجِفَانِ وَلَا يُرَاحُ عَلَيْهِ بِهَا، كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَارِزًا، مَنْ أَرَادَ أَنْ يَلْقَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ، كَانَ يَجْلِسُ بِالْأَرْضِ، وَيُوضَعُ طَعَامُهُ بِالْأَرْضِ، وَيَلْبَسُ الْغَلِيظَ، وَيَرْكَبُ الْحِمَارَ، وَيُرْدِفُ خَلْفَهُ وَيَلْعَقُ وَاللهِ يَدَهُ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے دروازے بند نہیں کیے جاتے تھے، کوئی دربان نہیں بیٹھتا تھا، صبح اور شام کا کھانا سامنے نہیں لایا جاتا تھا، رسول اللہ ﷺ سامنے ہوتے، جس کا دل چاہتا ملاقات کر لیتا، آپ ﷺ زمین پر بیٹھتے، آپ ﷺ کا کھانا زمین پر رکھا جاتا، آپ ﷺ موٹا لباس پہنتے، گدھے کی سواری فرماتے، اپنے پیچھے کسی کو بٹھا لیتے اور اللہ کی قسم! اپنا ہاتھ چاٹ لیتے۔