السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: فضل من ابتلي بشيء من الأعمال، فقام فيه بالقسط وقضى بالحق باب: اس شخص کی فضیلت کا بیان جسے کسی عہدے یا کام کی آزمائش میں ڈالا گیا تو اس نے اس میں انصاف قائم کیا اور حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔
حدیث نمبر: 20166
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبُرُلُّسِيُّ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُرَيْدٍ الْأَشْعَرِيُّ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَلَسَ الْقَاضِي فِي مَكَانِهِ هَبَطَ عَلَيْهِ مَلَكَانِ يُسَدِّدَانِهِ وَيُوَفِّقَانِهِ وَيُرْشِدَانِهِ، مَا لَمْ يَجُرْ فَإِذَا جَارَ عَرَجَا وَتَرَكَاهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب قاضی اپنی جگہ بیٹھ جاتا ہے تو دو فرشتے اس کو سیدھا رکھتے ہیں اور اس کی رہنمائی فرماتے ہیں، جب تک وہ ظلم نہ کرے۔ جب وہ ظلم کرتا ہے تو وہ دونوں اوپر چڑھ جاتے ہیں اور اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔“