السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: فضل من ابتلي بشيء من الأعمال، فقام فيه بالقسط وقضى بالحق باب: اس شخص کی فضیلت کا بیان جسے کسی عہدے یا کام کی آزمائش میں ڈالا گیا تو اس نے اس میں انصاف قائم کیا اور حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔
حدیث نمبر: 20165
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ثنا مُلَازِمُ بْنُ عُمَرَ، وَحَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ نَجْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - وَهُوَ أَبُو كَثِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ طَلَبَ قَضَاءَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَنَالَهُ ثُمَّ غَلَبَ عَدْلُهُ جَوْرَهُ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ غَلَبَ جَوْرُهُ عَدْلَهُ فَلَهُ النَّارُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مسلمانوں کی قضا کا عہدہ طلب کیا اور اس کو پا بھی لیتا ہے، اگر اس کا عدل ظلم پر غالب ہوتا ہے تو اس کے لیے جنت ہے، لیکن جس کا ظلم عدل پر غالب ہوا اس کے لیے جہنم ہے۔“