السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النذور— نذروں کا بیان
باب: من أمر فيه بالإعادة والمشي فيما ركب، والركوب فيما مشى، حتى يأتي به كما نذره باب: جس نے اس میں اعادہ (دہرانے) کا حکم دیا، اور جو حصہ سوار ہو کر طے کیا تھا اس میں پیدل چلنے اور جو حصہ پیدل طے کیا تھا اس میں سوار ہونے کا بیان تاکہ نذر کے مطابق عمل پورا ہو جائے۔
حدیث نمبر: 20130
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ السِّمَّرِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ⦗١٤٠⦘ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَامِرٍ يَعْنِي الشَّعْبِيَّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ فَمَشَى نِصْفَ الطَّرِيقِ، ثُمَّ رَكِبَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " إِذَا كَانَ عَامُ قَابِلٍ فَلْيَرْكَبْ مَا مَشِيَ، وَيَمْشِي مَا رَكِبَ وَيَنْحَرْ بَدَنَةً ".حافظ ثناء اللہ
اسماعیل، عامر شعبی سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے ایک آدمی کے متعلق سوال ہوا جس نے بیت اللہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر مانی تھی، وہ آدھا راستہ چلا پھر سوار ہو گیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آئندہ سال اتنی سواری کرے جتنا چلا اور اتنا چلے جتنی سواری کی، اور ایک اونٹ ذبح کرے۔