السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النذور— نذروں کا بیان
باب: من أمر فيه بالإعادة والمشي فيما ركب، والركوب فيما مشى، حتى يأتي به كما نذره باب: جس نے اس میں اعادہ (دہرانے) کا حکم دیا، اور جو حصہ سوار ہو کر طے کیا تھا اس میں پیدل چلنے اور جو حصہ پیدل طے کیا تھا اس میں سوار ہونے کا بیان تاکہ نذر کے مطابق عمل پورا ہو جائے۔
حدیث نمبر: 20131
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ: قَالَ: كَانَ عَلَيَّ مَشْيٌ، فَأَصَابَتْنِي خَاصِرَةٌ فَرَكِبْتُ حَتَّى أَتَيْتُ مَكَّةَ فَسَأَلْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ وَغَيْرَهُ، فَقَالُوا: عَلَيْكَ هَدْيٌ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ سَأَلْتُ فَأَمَرُونِي أَنْ أَمْشِيَ مِنْ حَيْثُ عَجَزْتُ، فَمَشَيْتُ مَرَّةً أُخْرَى ". وَالَّذِي أَجَازَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي كِتَابِ النُّذُورِ مِنْ وُجُوبِ الْمَشْيِ فِيمَا قَدَرَ عَلَيْهِ وَسُقُوطِهِ فِيمَا عَجَزَ عَنْهُ أَشْبَهُ الْأَقَاوِيلِ بِحَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَأَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهُوَ أَوْلَى بِهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے ذمہ چلنا تھا، مجھے کوکھ کی بیماری لگ گئی، میں نے سواری کر لی، جب میں مکہ آیا تو عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ وغیرہ سے سوال کیا، انہوں نے کہا: آپ کے ذمہ قربانی ہے، جب میں مدینہ آیا اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: میں اس جگہ سے دوبارہ چلوں جہاں سے چلنے پر عاجز آ گیا تھا، میں دوبارہ وہاں سے چلا۔