السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الاستهام على الأذان باب: اذان دینے کے لیے قرعہ اندازی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2012
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ أنبأ ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ سُمِيِّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ ⦗٦٣٠⦘ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَيُذْكَرُ أَنَّ قَوْمًا اخْتَلَفُوا فِي الْأَذَانِ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ سَعْدٌ.حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر لوگ جان لیں کہ اذان اور پہلی صف میں کیا (فضیلت) ہے، قرعہ کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تو وہ ضرور قرعہ ڈالیں، اور اگر وہ جان لیں کہ ظہر (کی نماز) میں کیا فضیلت ہے تو وہ اس کی طرف سبقت کریں، اور اگر وہ جان لیں کہ عشا اور صبح (کی نماز) میں کیا فضیلت ہے تو وہ ضرور ان کے لیے آئیں اگرچہ گھسٹ کر آنا پڑے۔“ (ب) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ بات منقول ہے کہ لوگوں نے اذان کہنے میں اختلاف کیا تو سعد رضی اللہ عنہ نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا (کہ اذان کون کہے گا)۔