السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الاستهام على الأذان باب: اذان دینے کے لیے قرعہ اندازی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2013
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ثنا أَبُو عُبَيْدٍ ثنا هُشَيْمٌ ثنا ابْنُ شُبْرُمَةَ قَالَ: " تَشَاجَرَ النَّاسُ فِي الْأَذَانِ بِالْقَادِسِيَّةِ فَاخْتَصَمُوا إِلَى سَعْدٍ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ ".حافظ ثناء اللہ
ابن شبرمہ رحمہ اللہ نے ہمیں بیان کیا کہ لوگ قادسیہ کے میدان میں اذان کہنے کے لیے جھگڑنے لگے تو وہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس جھگڑا لے کر گئے، انہوں نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا۔