حدیث نمبر: 2011
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ثنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ حَدَّثَنِيهِ الْأَنْصَارِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ عَنْ مَرْحُومٍ الْعَطَّارِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مُؤَذِّنِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ أَنَّ عُمَرَ، قَالَ لَهُ ذَلِكَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَإِذَا أَقَمْتَ فَاحْذِمْ " قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: الْحَذْمُ الْحَدْرُ فِي الْإِقَامَةِ وَقَطْعُ التَّطْوِيلِ، وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يُرْسِلُ الْأَذَانَ وَيَحْذِمُ الْإِقَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ

(الف) ابوزبیر جو بیت المقدس کے مؤذن تھے فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: جب تو اقامت کہے تو جلدی کہہ۔
(ب) اصمعی کہتے ہیں: «الحَذْمُ» سے مراد «الحَدْرُ» ہے یعنی طوالت سے گریز کرنا۔
(ج) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا گیا ہے کہ وہ اذان ٹھہر ٹھہر کر دیتے تھے اور اقامت جلدی کہتے تھے۔
(الف) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر لوگ جان لیں کہ اذان اور پہلی صف میں کیا (فضیلت) ہے، قرعہ کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تو وہ ضرور قرعہ ڈالیں، اور اگر وہ جان لیں کہ ظہر (کی نماز) میں کیا فضیلت ہے تو وہ اس کی طرف سبقت کریں، اور اگر وہ جان لیں کہ عشاء اور صبح (کی نماز) میں کیا فضیلت ہے تو وہ ضرور ان کے لیے آئیں اگرچہ گھسٹ کر آنا پڑے۔“
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ بات منقول ہے کہ لوگوں نے اذان کہنے میں اختلاف کیا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا (کہ اذان کون کہے گا)۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2011
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 590»