حدیث نمبر: 20097
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ أَتَى قُبَّةَ امْرَأَةٍ، فَسَلَّمَ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ، فَلَمْ يَتْرُكْهَا حَتَّى كَلَّمَتْهُ، قَالَتْ: " يَا عَبْدَ اللهِ، مَنْ أَنْتَ؟ "، قَالَ: " مِنَ الْمُهَاجِرِينَ "، قَالَتْ: " الْمُهَاجِرُونَ كَثِيرٌ، فَمِنْ أَيِّهِمْ أَنْتَ؟ "، قَالَ: فَقَالَ: " مِنْ قُرَيْشٍ "، قَالَتْ: " قُرَيْشٌ كَثِيرٌ، فَمِنْ أَيِّهِمْ أَنْتَ؟ "، قَالَ: " أَنَا أَبُو بَكْرٍ "، قَالَتْ: " بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ شَيْءٌ، فَحَلَفْتُ إِنِ اللهُ عَافَانَا أَنْ لَا أُكَلِّمَ أَحَدًا حَتَّى أَحُجَّ "، قَالَ: " إِنَّ الْإِسْلَامَ هَدَمَ ذَلِكَ، فَتَكَلَّمِي ".
حافظ ثناء اللہ

زید بن وہب رحمہ اللہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ ایک عورت کے خیمے کے پاس آئے۔ اس پر سلام کہا، اس نے کلام نہ کیا۔ انہوں نے بھی کلام کرنے تک اس کو نہ چھوڑا۔ وہ کہنے لگی: اے اللہ کے بندے! آپ کون ہیں؟ فرمایا: مہاجرین میں سے۔ کہنے لگی: کون سے مہاجرین؟ کیونکہ مہاجرین بہت زیادہ ہیں۔ فرمایا: قریش سے۔ کہنے لگی: قریش بہت زیادہ ہیں، آپ کن میں سے ہیں؟ فرمایا: میں ابوبکر ہوں۔ کہنے لگی: میرے ماں باپ (آپ پر) قربان! ہمارے اور قوم کے درمیان جاہلیت میں کچھ معاہدہ تھا۔ میں نے حج کرنے تک قسم اٹھائی ہے کہ کسی سے کلام نہ کروں گی۔ فرمایا: اسلام نے اس کو ختم کر دیا ہے، تو کلام کر۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النذور / حدیث: 20097
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»