السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النذور— نذروں کا بیان
باب: ما يوفى به من النذور، وما لا يوفى باب: ان نذروں کا بیان جو پوری کی جائیں گی اور جو پوری نہیں کی جائیں گی۔
حدیث نمبر: 20098
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَجَاءَ رَجُلَانِ، فَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا، وَلَمْ يُسَلِّمِ الْآخَرُ، فَقُلْنَا، أَوْ قَالَ: " مَا بَالُ صَاحِبِكَ لَمْ يُسَلِّمْ؟ " قَالَ: " إِنَّهُ نَذَرَ صَوْمًا لَا يُكَلِّمُ الْيَوْمَ إِنْسِيًّا، قَالَ عَبْدُ اللهِ: بِئْسَ مَا قُلْتَ إِنَّمَا كَانَتْ تِلْكَ امْرَأَةً، قَالَتْ ذَلِكَ لِيَكُونَ لَهَا عُذْرٌ، وَكَانُوا يُنْكِرُونَ أَنْ يَكُونَ وَلَدٌ مِنْ غَيْرِ زَوْجٍ، وَلَا زِنًا "، أَوْ: إِلَّا زِنًا، فَسَلِّمْ، وَمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ ".حافظ ثناء اللہ
حارثہ بن مضرب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ دو آدمی آئے۔ ایک نے سلام کیا اور دوسرے نے سلام نہ کیا۔ ہم نے کہا یا انہوں نے فرمایا: آپ کے ساتھی نے سلام نہیں کیا؟ وہ کہنے لگے: انہوں نے انسان سے کلام نہ کرنے کا روزہ رکھا ہوا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تو نے برا کہا، بلکہ یہ ایک عورت تھی جس نے عذر پیش کیا، وہ اس عورت کے بچے کا انکار کرتے تھے کہ یہ بچہ زنا کا ہے۔ نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔