السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النذور— نذروں کا بیان
باب: ما يوفى به من النذور، وما لا يوفى باب: ان نذروں کا بیان جو پوری کی جائیں گی اور جو پوری نہیں کی جائیں گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ مِنْ أَصْلِهِ قَالَا: أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ثنا بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: " دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ أَحْمَسَ يُقَالُ لَهَا: زَيْنَبُ، قَالَ: فَرَآهَا لَا تَكَلَّمُ، قَالَ: " مَا لِهَذِهِ لَا تَكَلَّمُ؟ "، قَالَ: فَقَالُوا: " حَجَّتْ مُصْمِتَةً فَقَالَ: " تَكَلَّمِي، فَإِنَّ هَذَا لَا يَحِلُّ، هَذَا مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَتَكَلَّمَتْ، فَقَالَتْ: " مَنْ أَنْتَ؟ "، قَالَ: " أَنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ "، قَالَتْ: " مِنْ أِيِّ الْمُهَاجِرِينَ؟ "، قَالَ: " مِنْ قُرَيْشٍ "، قَالَتْ: " مِنْ أِيِّ قُرَيْشٍ؟ "، قَالَ: " إِنَّكِ لَسئُولٌ، أَنَا أَبُو بَكْرٍ "، فَقَالَتْ: " مَا بَقَاؤُنَا عَلَى هَذَا الْأَمْرِ الصَّالِحِ الَّذِي جَاءَ اللهُ بِهِ بَعْدَ الْجَاهِلِيَّةِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ "، قَالَ: فَقَالَ: " بَقَاؤُكُمْ عَلَيْهِ مَا اسْتَقَامَتْ أَئِمَّتُكُمْ "، قَالَتْ: " وَمَا الْأَئِمَّةُ؟ "، قَالَ: " أَمَا كَانَ لِقَوْمِكِ رُءُوسٌ وَأَشْرَافٌ يَأْمُرُونَهُمْ وَيُطِيعُونَهُمْ؟ "، قَالَتْ: " بَلَى "، قَالَ: " فَهُمْ أَمْثَالُ أُولَئِكَ يَكُونُونَ عَلَى النَّاسِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ.حضرت قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ احمس قبیلہ کی ایک عورت کے پاس آئے، اس کا نام زینب تھا، انہوں نے دیکھا وہ کلام نہیں کرتی، پوچھا: تو کلام کیوں نہیں کرتی؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے کہا کہ اس نے حج خاموشی سے کیا ہے، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کلام کر! یہ جائز نہیں ہے، یہ جاہلیت کا کام ہے، کہنے لگی: آپ کون ہیں؟ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں مہاجرین میں سے ہوں، کہنے لگی: کون سے مہاجرین؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قریشی، کہنے لگی: کون سے قریش؟ فرمایا: تو بہت سوال کرنے والی ہے، میں ابوبکر ہوں، کہنے لگی: اللہ تعالیٰ جاہلیت کے بعد جو یہ نیک کام (دین) لایا ہے، نبی ﷺ کے بعد ہم اس پر کب تک باقی رہیں گے؟ فرمایا: جب تک تمہارے ائمہ سیدھے رہیں گے تم اس پر باقی رہو گے، کہنے لگی: ائمہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: کیا تمہاری قوم کے سردار اور اشراف نہیں جو انہیں حکم دیتے اور وہ ان کی اطاعت کرتے؟ کہنے لگی: کیوں نہیں، فرمایا: اسی طرح لوگوں کے بھی ہوتے ہیں۔