السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النذور— نذروں کا بیان
باب: ما يوفى به من النذور، وما لا يوفى باب: ان نذروں کا بیان جو پوری کی جائیں گی اور جو پوری نہیں کی جائیں گی۔
حدیث نمبر: 20092
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ح ⦗١٣٠⦘ وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فِي الشَّمْسِ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: هَذَا أَبُو إِسْرَائِيلَ نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلَا يَقْعُدَ، وَلَا يَسْتَظِلَّ وَلَا يَتَكَلَّمَ، وَيَصُومَ وَلَا يُفْطِرَ، فَقَالَ: " مُرْهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ، وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اچانک ایک آدمی دھوپ میں کھڑا تھا۔ آپ ﷺ نے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: ”یہ ابواسرائیل ہے، اس نے کھڑے رہنے اور نہ بیٹھنے کی نذر مانی ہے اور نہ سائے میں جائے گا اور نہ ہی کلام کرے گا، اور روزے رکھے گا، افطار نہیں کرے گا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو حکم دو کہ کلام کرے، سایہ حاصل کرے، بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے۔“