السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النذور— نذروں کا بیان
باب: ما يوفى به من النذور، وما لا يوفى باب: ان نذروں کا بیان جو پوری کی جائیں گی اور جو پوری نہیں کی جائیں گی۔
حدیث نمبر: 20091
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ امْرَأَةَ أَبِي ذَرٍّ جَاءَتْ عَلَى الْقَصْوَاءِ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَنَاخَتْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَتْ: " يَا رَسُولَ اللهِ، " نَذَرْتُ لَئِنْ نَجَّانِي اللهُ عَلَيْهَا لَآكُلَنَّ مِنْ كَبِدِهَا وَسَنَامِهَا "، قَالَ: " بِئْسَمَا جَزَيْتِيهَا لَيْسَ هَذَا نَذْرًا، إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللهِ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ عنہ کی بیوی قصواء اونٹنی پر آئی، اس کو مسجد کے قریب بٹھا دیا گیا۔ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے مجھے نجات دی تو میں اس کا جگر اور کوہان کا گوشت کھاؤں گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے برا بدلہ دیا ہے۔“ فرمایا: ”یہ نذر نہیں، نذر صرف وہ ہوتی ہے جس میں اللہ کی رضا تلاش کی جائے۔“