السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النذور— نذروں کا بیان
باب: ما يوفى به من النذور، وما لا يوفى باب: ان نذروں کا بیان جو پوری کی جائیں گی اور جو پوری نہیں کی جائیں گی۔
حدیث نمبر: 20093
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِأَبِي إِسْرَائِيلَ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الشَّمْسِ فَقَالَ: " مَا لَهُ؟ " فَقَالُوا: " نَذَرَ أَنْ لَا يَسْتَظِلَّ، وَلَا يَقْعُدَ، وَلَا يُكَلِّمَ أَحَدًا، وَيَصُومَ "، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَظِلَّ، وَأَنْ يَقْعُدَ، وَأَنْ يُكَلِّمَ النَّاسَ، وَيُتِمَّ صَوْمَهُ، وَلَمْ يَأْمُرْهُ بِكَفَّارَةٍ ". هَذَا مُرْسَلٌ جَيِّدٌ وَفِيهِ، وَفِيمَا قَبْلَهُ، دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَأْمُرْ بِكَفَّارَةٍ. وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِمِثْلِهِ، وَفِي آخِرِهِ: وَلَمْ يَأْمُرْهُ بِالْكَفَّارَةِ " وَرُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كُرَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَفِيهِ الْأَمْرُ بِالْكَفَّارَةِ " وَمُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ ضَعِيفٌ.حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ابو اسرائیل رضی اللہ عنہ، جو دھوپ میں کھڑے تھے، کو حکم دیا اور فرمایا: ”اس کو کیا ہے؟“ انہوں نے کہا کہ اس نے نذر مانی ہے کہ وہ نہیں بیٹھے گا اور نہ سایہ حاصل کرے گا اور نہ کسی سے کلام کرے گا اور روزہ رکھے گا، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ”وہ سایہ حاصل کرے اور بیٹھ جائے اور لوگوں سے کلام کرے اور روزہ پورا کرے“ اور آپ ﷺ نے اس کو کفارے کا حکم نہیں دیا۔