السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النذور— نذروں کا بیان
باب: ما يوفى به من النذور، وما لا يوفى باب: ان نذروں کا بیان جو پوری کی جائیں گی اور جو پوری نہیں کی جائیں گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ بْنِ وَاقِدٍ الْكِلَابِيُّ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتْ ثَقِيفُ حُلَفَاءَ لِبَنِي عُقَيْلٍ فَأَسَرَتْ ثَقِيفُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا، وَأَصَابُوا مَعَهُ الْعَضْبَاءَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ كَمَا مَضَى وَفِيهِ قَالَ: وَأُسِرَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَأُصِيبَتِ الْعَضْبَاءُ فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ فِي الْوَثَاقِ، وَكَانَ الْقَوْمُ يُرِيحُونَ نَعَمَهُمْ بَيْنَ أَيْدِي بُيُوتِهِمْ، فَانْفَلَتَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنَ الْوَثَاقِ، فَأَتَتِ الْإِبِلَ، فَجَعَلَتْ إِذَا دَنَتْ مِنَ الْبَعِيرِ رَغَا فَتَتْرُكُهُ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى الْعَضْبَاءِ فَلَمْ تَرْغُ قَالَ: وَنَاقَةٌ مَنُوقَةٌ فَقَعَدَتْ فِي عَجُزِهَا، ثُمَّ زَجَرَتْهَا فَانْطَلَقَتْ وَنَذَرُوا بِهَا فَطَلَبُوهَا فَأَعْجَزَتْهُمْ قَالَ: وَنَذَرَتْ إِنِ اللهُ أَنْجَاهَا لَتَنْحَرَنَّهَا فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ رَآهَا النَّاسُ فَقَالُوا: " الْعَضْبَاءُ نَاقَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهَا قَدْ نَذَرَتْ إِنِ اللهُ أَنْجَاهَا عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " سُبْحَانَ اللهِ بِئْسَ مَا جَزَتْهَا إِنِ اللهُ أَنْجَاهَا عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ الْعَبْدُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَيْرِهِ.ابو مہلب سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف، قبیلہ بنو عقیل کے حلیف تھے۔ ثقیف نے نبی ﷺ کے دو صحابہ رضی اللہ عنہما کو قیدی بنا لیا اور نبی ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک آدمی کو قید کر لیا اور انہوں نے اس کی اونٹنی بھی قبضے میں لے لی۔ اس نے حدیث کو ذکر کیا۔ انصاری عورت قیدی بنائی گئی۔ عضباء اونٹنی چوری کر لی گئی۔ وہ عورت قید میں تھی اور لوگ اپنے جانور اپنے گھروں کے سامنے چراتے تھے۔ وہ عورت ایک رات قید سے نکلی اور کھسک کر اونٹوں کے پاس پہنچ گئی۔ جب وہ کسی اونٹ کے پاس جاتی وہ آواز نکالتا تو وہ اس کو چھوڑ دیتی یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی عضباء اونٹنی تک پہنچ گئی۔ اس نے آواز نہ نکالی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ نکیل والی اونٹنی تھی۔ اس عورت نے اس پر سواری کی اور رجزیہ اشعار کہے اور چلی گئی۔ انہوں نے نذر مانی، اس عورت کو تلاش کرنا چاہا تو اس عورت نے ان کو عاجز کر دیا۔ اس نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے اس کو نجات دی تو وہ اس کو ذبح کرے گی۔ جب وہ مدینہ آئی تو لوگوں نے اس کو دیکھا تو کہنے لگے کہ عضباء نبی ﷺ کی اونٹنی ہے۔ اس عورت نے کہا: میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے مجھے نجات دی تو وہ اس کو ذبح کرے گی، وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور اس بات کا انہوں نے تذکرہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ پاک ہے، اگر اللہ نے اس اونٹنی پر اس کو نجات دی تو وہ اس کو ذبح کرے گی، یہ برا ہے۔“ پھر فرمایا: ”اللہ کی نافرمانی میں نذر کا پورا کرنا نہیں اور جس کا بندہ مالک نہیں (اس میں بھی نذر نہیں)۔“