السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: من حلف: ليضربن عبده مائة سوط، فجمعها فضربه بها، لم يحنث استدلالا بقوله عز وجل وخذ بيدك ضغثا فاضرب به ولا تحنث باب: جس شخص نے قسم کھائی کہ وہ اپنے غلام کو سو کوڑے مارے گا، پھر اس نے ان (کوڑوں) کو جمع کیا اور ایک ہی بار مار دیا تو اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی، اللہ عزوجل کے اس فرمان سے استدلال کرتے ہوئے: ”اور اپنے ہاتھ میں سینکوں کی ایک مٹھی لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو“۔
حدیث نمبر: 20031
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: " جَاءَهُ رَجُلٌ وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: " إِنِّي حَلَفْتُ أَنْ لَا أَكْسُوَ أَهْلِي حَتَّى أَقِفَ بِعَرَفَةَ وَذَاكَ فِي غَيْرِ أَيَّامِ الْحَجِّ فَقَالَ عَطَاءٌ: " اذْهَبْ فَقِفْ، وَاكْسُ أَهْلَكَ "، فَقِيلَ لِعَطَاءٍ: " إِنَّمَا نَوَى الْحَجَّ "، فَقَالَ عَطَاءٌ: أَرَأَيْتَ أَيُّوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حِينَ حَلَفَ لَيَضْرِبَنَّ أَهْلَهُ، حَلَفَ لَيَضْرِبَنَّهَا بِضِغْثٍ؟ إِنَّمَا الْقُرْآنُ أَمْثَالٌ وَعِبَرٌ ".حافظ ثناء اللہ
اسماعیل بن عبدالملک رحمہ اللہ حضرت عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور میں بھی موجود تھا، اس نے کہا: میں نے اپنے گھر والوں کو وقوفِ عرفہ تک کپڑے نہ پہنانے کی قسم اٹھائی ہے لیکن یہ حج کے دن نہ تھے، تو عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جاؤ اپنے گھر والوں کو کپڑے پہناؤ۔ عطاء رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ اس نے حج کی نیت کی تھی، تو عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایوب علیہ السلام نے بھی اپنے گھر والوں کو مارنے کی قسم اٹھائی تھی کہ وہ ایک مٹھے سے ماریں گے، قرآن میں کئی مثالیں موجود ہیں۔