حدیث نمبر: 20030
بِقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا تَحْنَثْ} [ص: 44].
حافظ ثناء اللہ

(اس سے استدلال کیا گیا ہے) اللہ عزوجل کے اس فرمان سے: ﴿وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا تَحْنَثْ﴾ ”اور اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔“ [سورة ص: 44]

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمَذَانِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّهُ اشْتَكَى رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى أُضْنِيَ، فَعَادَ جِلْدُهُ عَلَى عَظْمٍ، فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ جَارِيَةٌ لِبَعْضِهِمْ فَهَشَّ لَهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّتَهُ قَالَ: " فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذُوا لَهُ مِائَةَ شِمْرَاخٍ، فَيَضْرِبُوهُ بِهَا ضَرْبَةً وَاحِدَةً ".
حافظ ثناء اللہ

ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم سے نقل کیا کہ ایک آدمی بیماری کی وجہ سے تڑپ رہا تھا، اس کی جلد اس کی ہڈی پر چڑ چکی تھی، اس کے پاس ایک لونڈی آئی جس نے ہنس مکھ ہو کر اس سے باتیں کیں تو وہ اس پر واقع ہو گیا، پھر اس نے اپنا واقعہ نبی ﷺ کے پاس ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو شاخیں جمع کر کے ایک ہی مرتبہ مارو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20030
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه السجستاني 4472»