حدیث نمبر: 20027
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ} [الشورى: 51] وَقَالَ لِلْمُؤْمِنِينَ فِي الْمُنَافِقِينَ {قُلْ لَا تَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا اللهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ} [التوبة: 94] وَإِنَّمَا نَبَّأَهُمْ مِنْ أَخْبَارِهِمْ بِالْوَحْيِ الَّذِي يَنْزِلُ بِهِ جِبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُخْبِرُهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَحْيٍ إِلَيْهِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " مَنْ قَالَ لَا يَحْنَثُ، قَالَ: إِنَّ كَلَامَ الْآدَمِيِّينَ لَا يُشْبِهُ كَلَامَ اللهِ، كَلَامُ الْآدَمِيَّينَ بِالْمُوَاجَهَةِ، أَلَا تَرَى أَنَّهُ لَوْ هَجَرَ رَجُلٌ رَجُلًا، كَانَتِ الْهِجْرَةُ مُحَرَّمَةً عَلَيْهِ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ، أَوْ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولًا، وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَى كَلَامِهِ، لَمْ يُخْرِجْهُ هَذَا مِنْ هِجْرَتِهِ الَّتِي يَأْثَمُ بِهَا؟ ".
حافظ ثناء اللہ

اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ﴾ ”اور کسی انسان کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے، یا پردے کے پیچھے سے، یا وہ کوئی فرشتہ بھیجے جو اس کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کرے۔“ [سورة الشورى: 51]
اور اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں مومنوں (کی زبانی) فرمایا: ﴿قُلْ لَا تَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا اللهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ﴾ ”کہہ دیجیے: بہانے مت بناؤ، ہم ہرگز تمہاری بات کا یقین نہیں کریں گے، اللہ نے ہمیں تمہارے حالات بتا دیے ہیں۔“ [سورة التوبة: 94]
اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ان (منافقین) کے حالات صرف اس وحی کے ذریعے بتائے جسے جبرائیل علیہ السلام نبی کریم ﷺ پر لے کر نازل ہوتے تھے، اور نبی کریم ﷺ اپنی طرف آنے والی وحی کے ذریعے انہیں (ان کے حالات کی) خبر دیتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو یہ کہتا ہے کہ (خط لکھنے یا قاصد بھیجنے سے) وہ حانث نہیں ہو گا (یعنی قسم نہیں ٹوٹے گی)، وہ کہتا ہے کہ انسانوں کا کلام اللہ کے کلام کے مشابہ نہیں ہے، انسانوں کا کلام آمنے سامنے ہوتا ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی آدمی کسی آدمی سے قطع تعلق کر لے، جبکہ تین راتوں سے زیادہ قطع تعلق اس پر حرام ہے، پھر وہ اسے خط لکھ دے یا اس کی طرف کوئی قاصد بھیج دے، حالانکہ وہ اس سے بات کرنے پر قادر ہو، تو یہ عمل اسے اس قطع تعلق سے نہیں نکالے گا جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوتا ہے؟“

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَرْوِيهِ: " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زائد قطع تعلق جائز نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں لیکن اپنی جگہ رکے رہتے ہیں، اور ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں ابتدا کرتا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 20027
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»