السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: من حلف: لا يأكل خبزا بأدم، فأكله بما يعد أدما في العادة، بما يصطبغ به، أو لا يصطبغ باب: جس شخص نے قسم کھائی کہ وہ سالن کے ساتھ روٹی نہیں کھائے گا، پھر اس نے اسے کسی ایسی چیز کے ساتھ کھا لیا جو عام طور پر سالن سمجھی جاتی ہے، خواہ وہ ڈبو کر کھانے والی ہو یا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 20026
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الْأَعْوَرِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ ⦗١٠٨⦘ سَلَّامٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ كِسْرَةً مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ، فَوَضَعَ عَلَيْهَا تَمْرَةً، وَقَالَ: " هَذِهِ إِدَامُ هَذِهِ "، فَأَكَلَهَا.حافظ ثناء اللہ
یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ نے جو کی روٹی کا ٹکڑا پکڑا ہوا تھا اور اس کے اوپر کھجور رکھی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اس کا سالن ہے“ اور اسے کھا لیا۔