السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: من حلف: لا يكلم رجلا، فأرسل إليه رسولا، أو كتب إليه كتابا باب: جس شخص نے قسم کھائی کہ وہ کسی آدمی سے کلام نہیں کرے گا، پھر اس نے اس کی طرف کوئی قاصد بھیج دیا یا اسے کوئی خط لکھ دیا۔
حدیث نمبر: 20028
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَهْجُرَ مُؤْمِنًا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَإِذَا مَرَّ ثَلَاثٌ، لَقِيَهُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَإِنْ رَدَّهُ، فَقَدِ اشْتَرَكَا فِي الْأَجْرِ، وَإِنْ لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، فَقَدْ بَرِأَ الْمُسْلِمُ مِنَ الْهِجْرَةِ، وَصَارَتْ عَلَى صَاحِبِهِ ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن ہلال اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مومن بھائی کو تین دن سے زائد چھوڑے، لیکن تین دن گزرنے کے بعد وہ ایک دوسرے کو سلام کہے، اگر وہ جواب دیتا ہے تو وہ دونوں اجر میں شریک ہوں گے، اور اگر وہ جواب نہیں دیتا تو یہ (جواب نہ دینے والا) مجرم ہوگا اور دوسرا قطع تعلقی سے بری ہوگا۔“