السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: لا يؤذن إلا عدل ثقة للإشراف على عورات الناس وأماناتهم على المواقيت باب: صرف عادل اور ثقہ شخص ہی اذان دے، تاکہ لوگوں کی پردے والی جگہوں پر جھانکنے سے محفوظ رہے اور اوقات کے تعین پر اس کی امانت داری برقرار رہے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2001
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِبَنِي خَطْمَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ: " يَا بَنِي خَطْمَةَ اجْعَلُوا مُؤَذِّنَكُمْ أَفْضَلَكُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ " وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ.حافظ ثناء اللہ
صفوان بن سلیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار میں سے بنی خطمہ سے کہا: ”اے بنی خطمہ! مؤذن ان کو بناؤ جو تم میں سے افضل ہوں۔“ یہ روایت بھی مرسل ہے۔