السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: لا يؤذن إلا عدل ثقة للإشراف على عورات الناس وأماناتهم على المواقيت باب: صرف عادل اور ثقہ شخص ہی اذان دے، تاکہ لوگوں کی پردے والی جگہوں پر جھانکنے سے محفوظ رہے اور اوقات کے تعین پر اس کی امانت داری برقرار رہے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2000
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُؤَذِّنُونَ أُمَنَاءُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى صَلَاتِهِمْ " قَالَ: وَذَكَرَ مَعَهَا غَيْرَهَا وَهَذَا الْمُرْسَلُ شَاهِدٌ لِمَا تَقَدَّمَ.حافظ ثناء اللہ
حسن (بصری) رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مؤذن مسلمانوں کی نمازوں کے امین ہیں۔“ اور انہوں نے اس کے ساتھ کچھ اور (باتیں) بھی ذکر کیں۔ یہ روایت مرسل ہے اور پہلی روایت کے لیے شاہد ہے۔