السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: لا يؤذن إلا عدل ثقة للإشراف على عورات الناس وأماناتهم على المواقيت باب: صرف عادل اور ثقہ شخص ہی اذان دے، تاکہ لوگوں کی پردے والی جگہوں پر جھانکنے سے محفوظ رہے اور اوقات کے تعین پر اس کی امانت داری برقرار رہے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2002
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَسَأَلَ: " مَنْ مُؤَذِّنُكُمْ فَقُلْنَا عَبِيدُنَا وَمَوَالِينَا فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا يُقَلِّبُهَا عَبِيدُنَا وَمَوَالِينَا: إِنَّ ذَلِكُمْ بِكُمْ لَنَقْصٌ شَدِيدٌ لَوْ أَطَقْتُ الْأَذَانَ مَعَ الْخِلَافَةِ لَأَذَّنْتُ ".حافظ ثناء اللہ
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ ہم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے فرمایا: تمہارے مؤذن کون ہیں؟ ہم نے کہا: ہمارے غلام اور موالی۔ انہوں نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا یعنی اس کو الٹ پلٹ رہے تھے، ہمارے غلام اور ہمارے موالی۔ یہ تمہارا بہت بڑا نقص ہے، اگر میں اپنے خلیفہ ہونے کے ساتھ ساتھ اذان دینے کی طاقت رکھتا تو میں اذان دیتا۔