السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: ما جاء في إعتاق ولد الزنا باب: ولد الزنا کو آزاد کرنے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 20001
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا سُئِلَ عَنْ وَلَدِ الزِّنَا، وَوَلَدِ رِشْدَةٍ فِي الْعِتَاقَةِ؟ فَقَالَ: " انْظُرْ أَكْثَرَهُمَا ثَمَنًا "، فَوَجَدُوا وَلَدَ الزِّنَا أَكْثَرَهُمَا ثَمَنًا بِدِينَارٍ، فَأَمَرَهُمْ بِهِ ".حافظ ثناء اللہ
عمر بن عبدالرحمن قرشی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ حرامی بچے کے بارے میں پوچھا گیا اور صحیح النسب لڑکے کی آزادی کے بارے میں بھی، تو فرمایا: دیکھو! ان دونوں میں سے کس کی قیمت زیادہ ہے؟ تو انہوں نے دیکھا، حرامی بچے کی قیمت ایک دینار زیادہ تھی، چنانچہ آپ نے اس کا حکم دیا۔