السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: من حلف في الشيء لا يفعله مرارا باب: اس شخص کا بیان جس نے ایک ہی کام نہ کرنے پر بار بار قسم کھائی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بَنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " مَنْ حَلَفَ بِيَمِينٍ، فَوَكَّدَهَا، ثُمَّ حَنِثَ، فَعَلَيْهِ عِتْقُ رَقَبَةٍ، أَوْ كِسْوَةُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ، وَمَنْ حَلَفَ بِيَمِينٍ، فَلَمْ يُؤَكِّدْهَا، فَعَلَيْهِ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينٍ مُدٌّ مِنْ حِنَطَةٍ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ، فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بُكَيْرٍ وَرِوَايَةُ الشَّافِعِيِّ مُخْتَصَرَةٌ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَوَكَّدَهَا، فَعَلَيْهِ عِتْقُ رَقَبَةٍ ". قَالَ الشَّيْخُ: ظَاهِرُ الْكِتَابِ، ثُمَّ ظَاهِرُ السُّنَّةِ، ثُمَّ مَا رَوَيْنَا فِي هَذَا الْبَابِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَإِنْ كَانَ مُرْسَلًا - لَا يُفَرِّقُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ بَيْنَ تَوْكِيدِ الْيَمِينِ، وَغَيْرِ تَوْكِيدِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جو پختہ قسم اٹھائے پھر توڑ ڈالے تو اس پر ایک گردن کا آزاد کرنا ہے یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنانا ہے اور جس نے پختہ قسم نہ اٹھائی اس پر دس مسکینوں کا کھانا کھلانا ہے، ہر مسکین کے لیے گندم کا ایک مد ہے، جو نہ پائے اس پر تین دن کے روزے ہیں۔
(ب) ابن بکیر کی حدیث میں ہے کہ پختہ قسم پر ایک گردن کا آزاد کرنا ہے۔
(ج) پختہ اور عام قسم کے کفارے میں کوئی فرق نہیں ہے۔
(28) «بَابُ مَا يُجْزِئُ مِنَ الْكِسْوَةِ فِي الْكَفَّارَةِ وَهُوَ كُلُّ مَا وَقَعَ عَلَيْهِ اسْمُ كِسْوَةٍ مِنْ عِمَامَةٍ أَوْ سَرَاوِيلَ أَوْ إِزَارٍ أَوْ مِقْنَعَةٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ» ”باب: کفارے میں کتنا لباس کافی ہے؟ اور وہ ہر وہ چیز ہے جس پر لباس کا اطلاق ہو سکے جیسے پگڑی، پاجامہ، تہبند یا اوڑھنی وغیرہ۔“
ہر وہ چیز جس پر پہنانے کا اطلاق ہو سکے جیسے پگڑی، شلوار، ازار یا معمولی چیز کا کفارہ میں دینا جائز ہے
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أَوْ كِسْوَتُهُمْ﴾ [سورة المائدة: 89]