السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: من حلف في الشيء لا يفعله مرارا باب: اس شخص کا بیان جس نے ایک ہی کام نہ کرنے پر بار بار قسم کھائی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ الْخُزَاعِيُّ، أنبأ أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا هِشَامٌ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي هِلَالٌ الْوَزَّانُ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى قَالَ: " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، احْمِلْنِي " فَقَالَ: وَاللهِ لَا أَحْمِلُكَ "، فَقَالَ: وَاللهِ لَتَحْمِلَنِّي "، قَالَ: " وَاللهِ لَا أَحْمِلُكَ "، قَالَ: " وَاللهِ لَتَحْمِلَنِّي، إِنِّي ابْنُ سَبِيلٍ قَدْ أَدَّتْ بِي رَاحِلَتِي "، فَقَالَ: " وَاللهِ لَا أَحْمِلُكَ "، حَتَّى حَلَفَ نَحْوًا مِنْ عِشْرِينَ يَمِينًا، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: " مَا لَكَ وَلِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ "، قَالَ: " وَاللهِ لِيَحْمِلَنِّي، إِنِّي ابْنُ سَبِيلٍ، قَدْ أَدَّتْ بِي رَاحِلَتِي "، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: " وَاللهِ لَأَحْمِلَنَّكَ، ثُمَّ وَاللهِ لَأَحْمِلَنَّكَ "، قَالَ: فَحَمَلَهُ، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ ". قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: " هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، الْكَفَّارَةُ وَاحِدَةٌ، قَالَ الشَّيْخُ: " لَيْسَ ذَلِكَ بِبَيِّنٍ فِي الْحَدِيثِ " وَيُذْكَرُ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ أَقْسَمَ مِرَارًا، فَكَفَّرَ كَفَّارَةً وَاحِدَةً " وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي تَوْكِيدِ الْيَمِينِ، وَهُوَ تَكْرِيرُهَا فِي الشَّيْءِ الْوَاحِدِ، مَذْهَبٌ آخَرُ.ہلال وزان کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی یعلیٰ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے امیر المومنین! مجھے سواری دیں۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تجھے سواری نہ دوں گا۔ اس نے کہا: ضرور آپ مجھے سواری دیں گے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سواری نہ دوں گا۔ اس نے دوبارہ کہا: آپ ضرور مجھے سواری دیں گے، میں مسافر ہوں، میری سواری تھک چکی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں تجھے سواری نہ دوں گا اللہ کی قسم! یہاں تک کہ انہوں نے بیس کے قریب قسم کھا لیں۔
اس سے ایک انصاری آدمی نے کہا: تجھے کیا ہے امیر المومنین سے؟ وہ کہنے لگا: میں مسافر ہوں، میری سواری عاجز آچکی، ان کو چاہیے کہ وہ مجھے سواری دیں، لیکن وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں تجھے سواری نہ دوں گا۔
راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر سواری دے دی۔ پھر فرمایا: ”جو کسی کام پر قسم کھالے اور دوسرا اس سے بہتر ہو تو قسم کا کفارہ دے کر بہتر کام کرلے۔“ علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کفارہ ایک ہی ہے۔
(ب) شیخ فرماتے ہیں اس میں یہ دلیل موجود نہیں ہے، لیکن سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی فرماتے ہیں کہ اس طرح کی قسم میں کفارہ ایک دفعہ ہی ہے۔