السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: من حلف في الشيء لا يفعله مرارا باب: اس شخص کا بیان جس نے ایک ہی کام نہ کرنے پر بار بار قسم کھائی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَكَفَّرَ، وَأَمَرَ بِالْمَسَاكِينِ، فَأُدْخِلُوا بَيْتَ الْمَالِ، فَأَمَرَ بِجَفْنَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فَقُدِّمَتْ إِلَيْهِمْ، فَأَكَلُوا، ثُمَّ كَسَا كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ ثَوْبًا، إِمَّا مُعَقَّدًا وَإِمَّا ظَهْرَانِيًا " قَالَ الشَّيْخُ: وَكَأَنَّهُ لَمْ يَرَ الْكَفَّارَةَ بِمَا أَعْطَاهُمْ مِنَ الثَّرِيدِ مُجْزِيَةً، فَأَعْطَى كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ ثَوْبًا، وَرُوِيَ عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَلَفَ، فَأَعْطَى عَشَرَةَ مَسَاكِينَ عَشَرَةَ أَثْوَابٍ لِكُلِّ مِسْكِينٍ ثَوْبًا مِنْ مُعَقَّدِ هَجَرَ.محمد بن سیرین سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کسی بھلائی کے کام پر قسم اٹھائی تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا اور مسکینوں کو بیت المال میں داخل ہونے کا حکم دیا۔ ایک ثرید کا پیالہ لانے کا حکم فرمایا، جو ان کے سامنے پیش کیا گیا۔ انہوں نے اس سے کھایا۔ پھر ہر انسان کو پہنایا یا تو اوپر پہننے والا کپڑا یا ازار عطا فرمائے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہوں نے ثرید کو کفارہ میں کافی نہیں سمجھا بلکہ ہر ایک کو کپڑے بھی پہنائے۔
زہدم اجرمی سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی قسم کے کفارے میں دس مسکینوں کو کپڑے عطا کیے، ہر مسکین کو معقدِ ہجر کے بنے ہوئے دس دس کپڑے۔