السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: الإطعام في كفارة اليمين باب: قسم کے کفارے میں کھانا کھلانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19978
وَأَمَّا الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ يَسَارِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنِّي أَحْلِفُ أَنْ لَا أُعْطِيَ أَقْوَامًا، ثُمَّ يَبْدُوَ لِي أَنْ أُعْطِيَهُمْ، فَإِذَا رَأَيْتَنِي قَدْ فَعَلْتُ ذَلِكَ، فَأَطْعِمْ عَنِّي عَشَرَةَ مَسَاكِينَ، بَيْنَ كُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعًا مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ". فَهَذَا شَيْءٌ كَانَ يَرَاهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَلَعَلَّهُ كَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يَزِيدَ، وَيُجْزِئُ أَقَلُّ مِنْهُ، بِدَلِيلِ مَا ذَكَرْنَا.حافظ ثناء اللہ
یسار بن نمیر فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں قسم اٹھاتا ہوں کہ لوگوں کو کچھ نہ دوں گا، لیکن بعد میں دے دیتا ہوں۔ جب آپ یہ صورتِ حال دیکھیں کہ میں نے ایسا کیا ہے تو میری جانب سے ہر مسکین کو ایک صاع گندم یا ایک صاع کھجور کا دے دیا کرو۔
یہ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خیال تھا۔ ممکن ہے کہ زیادہ کو مستحب خیال کرتے ہوں یا اس سے کم بھی کفایت کر جاتا ہو۔