السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: من حلف على شيء، وهو يرى أنه صادق، ثم وجده كاذبا باب: اس شخص کا بیان جس نے کسی چیز پر یہ سمجھتے ہوئے قسم کھائی کہ وہ سچا ہے، پھر اسے جھوٹ پایا۔
حدیث نمبر: 19944
قَالَ وَحَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنْ عَوْفٍ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ} [البقرة: ٢٢٥]، قَالَ: " اللَّغْوُ فِي الْأَيْمَانِ أَنْ تَحْلِفَ عَلَى شَيْءٍ، وَتَرَى أَنَّهُ كَذَلِكَ، فَلَيْسَ فِيهِ مُؤَاخذَةٌ، وَلَا كَفَّارَةٌ، وَلَكِنَّ الْمُؤَاخَذَةَ فِيمَا حَلَفْتَ عَلَى عِلْمٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا حسن رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿لَّا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ﴾ [سورة البقرة: 225] ”اللہ تمہاری لغو قسموں پر تمہارا محاسبہ نہ فرمائیں گے“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ آدمی کسی بات پر قسم اٹھاتا ہے لیکن وہ اس طرح نہیں ہوتی تو اس کی وجہ سے نہ کفارہ ہو گا اور نہ ہی مؤاخذہ ہو گا، بلکہ مؤاخذہ علم کے ہوتے ہوئے ہے۔