السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: ما جاء في اليمين الغموس باب: یمینِ غموس (جھوٹی قسم کھا کر دھوکہ دینے) کے متعلق کیا مروی ہے۔
وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا عَبْثَرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ: قَالَ: الْأَيْمَانُ أَرْبَعَةٌ: يَمِيَنَانِ تُكَفَّرَانِ، وَيَمِينَانِ لَا تُكَفَّرَانِ، فَالرَّجُلُ يَحْلِفُ: وَاللهِ لَا يَفْعَلُ كَذَا وَكَذَا، فَيَفْعَلُ، وَالرَّجُلُ يَقُولُ: وَاللهِ أَفْعَلُ، فَلَا يَفْعَلُ، وَأَمَّا الْيَمِينَانِ اللَّذَانِ لَا تُكَفَّرَانِ: فَإِنَّ الرَّجُلَ يَحْلِفُ: مَا فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ فَعَلَهُ، وَالرَّجُلُ يَحْلِفُ: لَقَدْ فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا، وَلَمْ يَفْعَلْهُ ". فَهَكَذَا رَوَاهُ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، وَخَالَفَهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، فَرَوَاهُ عَنْ لَيْثٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ كُلَيْبٍ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ مِنْ قَوْلِهِ، وَهُوَ أَشْبَهُ.علقمہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ قسم کی چار اقسام ہیں: دو کا کفارہ ہوتا ہے اور دو کا کفارہ نہیں ہوتا؛ (1) ایک آدمی قسم اٹھاتا ہے کہ اللہ کی قسم! وہ ایسے نہیں کرے گا، پھر کر لیتا ہے۔ (2) دوسرا آدمی جو کہتا ہے کہ اللہ کی قسم! اس طرح کروں گا لیکن کرتا نہیں؛ اور جن قسموں کا کفارہ نہیں ہوتا: (1) ایک آدمی قسم اٹھاتا ہے کہ میں نے ایسے نہیں کیا حالانکہ وہ کر چکا ہوتا ہے۔ (2) دوسرا آدمی قسم اٹھاتا ہے کہ میں نے ایسے کیا ہے حالانکہ اس نے نہیں کیا ہوتا۔
عبثر بن قاسم نے اسے لیث بن ابی سلیم سے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ سفیان ثوری نے ان کی مخالفت کی اور اسے لیث سے، انہوں نے زیاد بن کلیب ابو معشر سے اور انہوں نے ابراہیم کے قول کے طور پر روایت کیا ہے، اور یہی زیادہ درست ہے۔