السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: ما جاء في اليمين الغموس باب: یمینِ غموس (جھوٹی قسم کھا کر دھوکہ دینے) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19882
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا رَوْحٌ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ لَيْثٍ، ثنا زِيَادُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: الْأَيْمَانُ أَرْبَعٌ، يَمِينَانِ يُكَفَّرَانِ، وَيَمِينَانِ لَا يُكَفَّرَانِ، قَوْلُ الرَّجُلِ: وَاللهِ مَا فَعَلْتُ، وَاللهِ لَقَدْ فَعَلْتُ، لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنْهُ كَفَّارَةٌ، إِنْ كَانَ تَعَمَّدَ شَيْئًا، فَهُوَ كَذِبٌ، وَإِنْ كَانَ يَرَى أَنَّهُ كَمَا قَالَ، فَهُوَ لَغْوٌ، وَقَوْلُ الرَّجُلِ: وَاللهِ لَا أَفْعَلُ، وَوَاللهِ لَأَفْعَلَنَّ، فَهَذَا فِيهِ كَفَّارَةٌ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَلَيْثٌ، وَحَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِمَا وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قسم کی چار اقسام ہیں، دو کا کفارہ ہوتا ہے اور دو کا نہیں: آدمی کا یہ کہنا کہ اللہ کی قسم! میں نے نہیں کیا، اور اللہ کی قسم! میں نے کیا ہے، ان میں سے کسی میں کفارہ نہیں، اگر اس نے جان بوجھ کر ایسا کہا تو وہ جھوٹ ہے، اور اگر اس کا خیال تھا کہ بات ویسے ہی ہے جیسے اس نے کہی تو وہ قسم لغو ہے۔ اور آدمی کا یہ کہنا کہ اللہ کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا، اور اللہ کی قسم! میں ایسا ضرور کروں گا، تو اس میں کفارہ ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لیث اور حماد بن ابی سلیمان قابلِ حجت نہیں ہیں، واللہ اعلم۔