❮
❯
حدیث نمبر: 19880
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مَنْصُورٍ عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ طَاهِرٍ الْإِمَامُ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْدَانَ الْفَارِسِيُّ، قَالُوا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، ثنا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ رَجُلًا فَقَدَ نَاقَةً لَهُ، وَادَّعَاهَا عَلَى رَجُلٍ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَذَا أَخَذَ نَاقَتِي، فَقَالَ: لَا وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مَا أَخَذْتُهَا، فَقَالَ: " قَدْ أَخَذْتَهَا، رُدَّهَا عَلَيْهِ "، فَرَدَّهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ غُفِرَ لَكَ بِإِخْلَاصِكَ "، هَذَا مُنْقَطِعٌ، فَإِنْ كَانَ فِي الْأَصْلِ صَحِيحًا، فَالْمَقْصُودُ مِنْهُ الْبَيَانُ أَنَّ الذَّنْبَ، وَإِنْ عَظُمَ، لَمْ يَكُنْ مُوجِبًا لِلنَّارِ مَتَى مَا صَحَّتِ الْعَقِيدَةُ، وَكَانَ مِمَّنْ سَبَقَتْ لَهُ الْمَغْفِرَةُ، وَلَيْسَ هَذَا التَّعْيِينُ لِأَحَدٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ

اشعث حضرت حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کی اونٹنی گم ہو گئی تو اس نے ایک آدمی پر اس کا دعویٰ کر دیا اور وہ اس کو لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا۔ کہنے لگا: اس نے میری اونٹنی لے لی ہے۔ اس نے اللہ کی قسم اٹھائی کہ میں نے اس کی اونٹنی نہیں لی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اونٹنی لی ہے، اسے واپس کر دو۔“ تو اس نے اونٹنی لوٹا دی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تیرے اخلاص کی وجہ سے معاف کر دیا ہے۔“
وضاحت: یہ روایت منقطع ہے۔ اگر اصل میں صحیح ہو تو اس سے مقصود یہ بیان ہے کہ عقیدہ درست ہوتے ہوئے کوئی گناہ، اگرچہ بڑا ہو، جہنم واجب نہیں کرتا، لیکن یہ تعین نبی ﷺ کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19880
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»