السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: إبرار القسم إذا كان البر طاعة، أو لم يكن الحنث خيرا من البر باب: قسم پوری کرنے کا بیان جب اسے پورا کرنا طاعت ہو، یا اسے توڑنا اسے پورا کرنے سے بہتر نہ ہو۔
حدیث نمبر: 19867
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَيْمُونِيُّ، ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ حِمْصَ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُسَاوِمُ رَجُلًا بِغَنَمٍ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَبِيعَهَا، ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: أَبِيعُهَا، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: " إِنِّي لَأكْرَهُ أَنْ أَحْمِلَكَ عَلَى إِثْمٍ، فَأَبَى أَنْ يَشْتَرِيَهَا ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ جو اہل حمص میں سے ہیں بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابودرداء رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ ایک آدمی سے بکری کا سودا کر رہے تھے، تو اس نے قسم اٹھائی کہ وہ اس کو فروخت نہ کرے گا، بعد میں کہنے لگا: میں فروخت کرتا ہوں، تو ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اس سے بکری خریدنے سے انکار کر دیا کہ میں تجھے گناہ پر نہیں ابھارنا چاہتا۔