السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: ما جاء في اليمين الغموس باب: یمینِ غموس (جھوٹی قسم کھا کر دھوکہ دینے) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19868
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَابِقٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا الْكَبَائِرُ؟ قَالَ: " الْإِشْرَاكُ بِاللهِ "، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: " ثُمَّ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ "، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: " ثُمَّ الْيَمِينُ الْغَمُوسُ "، قَالَ: فَقُلْتُ لِعَامِرٍ مَا الْيَمِينُ الْغَمُوسُ، قَالَ: الَّذِي يَقْتَطِعُ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ، وَهُوَ فِيهَا كَاذِبٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک دیہاتی نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: کبیرہ گناہ کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔“ اس نے پوچھا: پھر کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”والدین کی نافرمانی کرنا۔“ اس نے پوچھا: پھر کون سا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جھوٹی قسم۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عامر سے کہا: جھوٹی قسم کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جھوٹی قسم کے ذریعے مسلمان کا مال ہڑپ کرنا۔