حدیث نمبر: 19862
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: نَزَلَ عَلَيْنَا أَضْيَافٌ لَنَا قَالَ: وَكَانَ أَبِي يَتَحَدَّثُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ، وَقَالَ افْرُغْ مِنْ أَضْيَافِكَ، قَالَ: فَلَمَّا أَمْسَيْتُ جِئْتُ بِقِرَاهُمْ، قَالَ: فَأَبَوْا، فَقَالُوا: حَتَّى يَجِيءَ أَبُو مَنْزِلِنَا، فَيَطْعَمُ مَعَنَا، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّهُ رَجُلٌ حَدِيدٌ، وَإِنَّكُمْ إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا خِفْتُ أَنْ يَمَسَّنِي مِنْهُ أَذًى، قَالَ: فَأَبَوْا، فَلَمَّا جَاءَ لَمْ يَبْدَأْ بِشَيْءٍ، فَقَالَ: أَفَرَغْتُمْ مِنْ أَضْيَافِكُمْ، قَالُوا: لَا وَاللهِ، مَا فَرَغْنَا، قَالَ: أَلَمْ آمُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: فَتَنَحَّيْتُ، فَقَالَ: يَا غُنْثَرُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِنْ كُنْتَ تَسْمَعُ صَوْتِي أَلَّا أَجَبْتَ "، قَالَ: فَجِئْتُ، قُلْتُ: وَاللهِ مَا لِي ذَنْبٌ، هَؤُلَاءِ أَضْيَافُكَ، فَسَلْهُمْ، قَدْ أَتَيْتُهُمْ بِقِرَاهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يَطْعَمُوا حَتَّى تَجِيءَ، قَالَ فَقَالَ: مَا لَكُمْ لَا تَقْبَلُونَ عَنَّا قِرَاكُمْ؟ فَوَاللهِ لَا أَطْعَمُهُ اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَقَالُوا: وَاللهِ لَا نَطْعَمُهُ حَتَّى تَطْعَمَهُ، قَالَ: فَقَالَ: كَالشَّرِّ مُنْذُ اللَّيْلَةِ، لَا تَقْبَلُونَ عَنَّا قِرَاكُمْ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: أَمَّا الْأُولَى، فَمِنَ الشَّيْطَانِ، هَلُمُّوا قِرَاكُمْ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بَرُّوا وَحَنِثْتُ،، قَالَ: فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: " بَلْ أَنْتَ أَبَرُّهُمْ وَأَخْيَرُهُمْ "، قَالَ: وَلَمْ يَبْلُغْنِي كَفَّارَةٌ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى. وَقَوْلُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَمَّا الْأُولَى فَمِنَ الشَّيْطَانِ، دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى تَرْكِ الطَّعَامِ مَكْرُوهَةٌ، وَإِنَّمَا لَمْ يَأْمُرْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْكَفَّارَةِ، إِنْ كَانَ لَمْ يَأْمُرْهُ بِهَا، لَعِلْمِهِ بِمَعْرِفَتِهِ بِوُجُوْبِهَا، وَيُحْتَمَلُ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ قَبْلَ نُزُولِ الْكَفَّارَةِ، وَالْأَوَّلُ أَشْبَهُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہمارے ہاں مہمان آئے اور میرے والد رات کو نبی ﷺ سے بات چیت کرتے تھے، جاتے ہوئے مجھ سے کہنے لگے: مہمانوں سے فارغ ہو جانا (یعنی کھانا کھلانا)۔ جب شام کے وقت میں نے کھانا پیش کیا تو انہوں نے کھانے سے انکار کر دیا اور کہنے لگے: آپ کے والد ہمارے ساتھ کھائیں گے تو ہم کھانا کھائیں گے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: وہ تیز مزاج والے ہیں، اگر تم نے کھانا نہ کھایا تو مجھے تکلیف کا اندیشہ ہے، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ جب والد صاحب واپس آئے تو سب سے پہلے پوچھا: مہمانوں سے فارغ ہو گئے (یعنی کھانا کھلایا)؟ انہوں نے کہا: ہم فارغ نہیں ہوئے۔ انہوں نے فرمایا: کیا میں نے عبدالرحمن کو حکم نہیں دیا تھا؟ وہ فرماتے ہیں: میں چھپ گیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قسم دے کر آواز دی: اگر سنتے ہو تو مجھے جواب دو۔ وہ کہتے ہیں: میں آیا اور کہا: میرا قصور نہیں، آپ اپنے مہمانوں سے پوچھ لیں۔ میں نے کھانا پیش کیا، لیکن انہوں نے یہ کہہ کر کھانا واپس کر دیا کہ آپ ان کے ساتھ مل کر کھائیں گے، تب وہ کھائیں گے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم نے ہماری مہمانی کو قبول کیوں نہ کیا۔ اللہ کی قسم! میں آج رات کھانا نہ کھاؤں گا۔ وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! ہم بھی نہیں کھائیں گے، جب تک آپ نہ کھائیں گے۔ پھر فرماتے ہیں: یہ بدترین چیز ہے کہ تم ہماری جانب سے اپنی مہمانی کو قبول نہ کرو۔ پھر فرمایا: پہلی بات شیطان کی جانب سے تھی۔ کھانا لاؤ بھئی۔ جب صبح کے وقت نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ انہوں نے نیکی کی اور میں نے قسم توڑ دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ان سے زیادہ نیک اور پسندیدہ ہے“ فرماتے ہیں: اس میں مجھے کفارہ نہیں پہنچا۔
قول ابوبکر: 1۔ کھانے کو چھوڑنے پر قسم کھانا مکروہ ہے، لیکن نبی ﷺ نے اس کے کفارے کا حکم نہیں دیا۔ 2۔ ممکن ہے یہ کفارے کے نازل ہونے سے پہلے کی بات ہو، لیکن پہلی بات زیادہ قرینِ قیاس ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19862
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»